Friday, August 2, 2013

شانِ نزول

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ۝۱۷۳
شانِ نزول: جنگ اُحد سے واپس ہوتے ہوئے ابوسفیان نے سید عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے پکار کر کہہ دیاتھا کہ اگلے سال ہماری آپ کی مقام بدر میں جنگ ہوگی۔ حضور نے انکے جواب میں فرمایاانشاء اللّٰہ جب وہ وقت آیا اور ابوسفیان اہل مکہ کو لے کر جنگ کے لئے روانہ ہوئے تو اللّٰہ تعالٰی نے ان کے دل میں خوف ڈالا اور انہوں نے واپس ہوجانے کاارادہ کیااس موقع پر ابوسفیان کی نُعَیۡم بن مسعود اشجعی سے ملاقات ہوئی جو عمرہ کرنے آیا تھا ابوسفیان نے اس سے کہاکہ اے نعیم اس زمانہ میں میری لڑائی مقام بدر میں محمد مصطفٰے صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طے ہوچکی ہے اور اس وقت مجھے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں جنگ میں نہ جاؤں واپس جاؤں تو مدینہ جا اور تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو میدان جنگ میں جانے سے روک دے اس کے عوض میں تجھ کو دس اونٹ دوں گانعیم نے مدینہ پہنچ کر دیکھا کہ مسلمان جنگ کی تیاری کررہے ہیں ان سے کہنے لگاکہ تم جنگ کے لئے جانا چاہتے ہو اہل مکہ نے تمہارے لئے بڑے لشکر جمع کئے ہیں خدا کی قسم تم میں سے ایک بھی پھر کر نہ آئے گا سید عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاخدا کی قسم میں ضرور جاؤں گاچاہے میرے ساتھ کوئی بھی نہ ہو پس حضور ستر سواروں کو ہمراہ لے کر 

0 comments:

Post a Comment

Block

Enter Block content here...


Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Etiam pharetra, tellus sit amet congue vulputate, nisi erat iaculis nibh, vitae feugiat sapien ante eget mauris.